ساتھ والا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ہمراہی، ساتھی، رفیق۔ "ہمارے ساتھ والے سب اس دنیا سے اٹھ گئے ایک ہم ہیں کہ زندہ ہیں۔ عاقبت کے بوریے سمیٹ رہے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢٩٠:٦ ) ٢ - پڑوسی، ہمسایہ؛ برابر والا۔ "محمود صاحب آپ کو ساتھ والے کمرے میں مل جائیں گے۔"      ( ١٩٦٢ء، تدریس اردو، ٣٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ متعلق فعل 'ساتھ' کے بعد سنسکرت سے ماخوذ لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٣ء سے "دلچسپ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہمراہی، ساتھی، رفیق۔ "ہمارے ساتھ والے سب اس دنیا سے اٹھ گئے ایک ہم ہیں کہ زندہ ہیں۔ عاقبت کے بوریے سمیٹ رہے ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢٩٠:٦ ) ٢ - پڑوسی، ہمسایہ؛ برابر والا۔ "محمود صاحب آپ کو ساتھ والے کمرے میں مل جائیں گے۔"      ( ١٩٦٢ء، تدریس اردو، ٣٧ )